Saturday, December 22, 2012

زندگی بھر کا سفر

زندگی بھر کا سفر


والدِ بزرگوار
قریشی غلام سرورصاحب مرحوم

http://meri-mohabbaten.blogspot.de/2011/07/blog-post_4007.html
.......................................................
.......................................................

۔۔۔۔میری پیدائش سے چند ماہ پہلے اباجی نے یکے بعد دیگر دوخواب دیکھے تھے۔ پہلا خواب یہ تھاکہ ایک بڑا اور گھنادرخت ہے جس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اباجی اس درخت کے اوپر عین درمیان میں کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ خواب سن کر اباجی کے ایک دوست روشن دین صاحب نے کہا کہ آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوگاجو.......۔۔۔۔دوسرا خواب یہ تھاکہ لمبے لمبے قد والے بہت سارے لوگ ہیں جو اپنے ہاتھ بلند کرکے ’’حیدر۔۔حیدر‘‘ کے نعرے لگارہے ہیں۔ ان دونوں خوابوں کے چند ماہ بعد میری پیدائش ہوئی۔ اباجی نے اپنے مرشد کو خط لکھا کہ بیٹے کا نام تجویز فرمادیں۔ مرشد کو اباجی کے خواب کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے حیدربنادیا۔ مگر اباجی کے دونوں خوابوں کی تعبیر کا ابھی تو دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ شاید حسن اتفاق تھاکہ میں پیداہوگیا اور حیدر نام رکھاگیا۔
  (کتاب ’’میری محبتیں‘‘ میں شامل ،ابا جی کے خاکہ’’برگد کا پیڑ‘‘سے اقتباس)
.........................................
1968
تھے اپنی ہی لہروں میں
عمر گذاری جو
پنجاب کے شہروں میں

...................................

1969
یادوں کے خزینے میں
خانپور اپنا تو
آباد ہے سینے ۔میں

.............................

1970
چمبیلی کی کلیاں تھیں
اپنی جوانی تھی
او رشہر کی گلیاں تھیں
.....................................
1970
جہاں بھر میں ہمارے عشق کی تشہیر ہوجائے
اُسے کس نے کہا تھا دل پہ یوں تحریر ہو جائے

......................................
1974
خوشی کے لمحے لکھو، عمرِ اضطراب لکھو
نکالو وقت کبھی عشق کا حساب لکھو
.............................................

1975
اپنی کچھ نیکیاں لکھنے کے لئے بھی حیدرؔ
اپنے ناکردہ گناہوں سے سیاہی مانگوں

............................................

1976
وہ جو حیدرؔ مِرے منکر تھے مِرے ذکر پہ اب
چونک اُٹھتے ہیں کسی سوچ میں پڑ جاتے ہیں

..........................................

1977
منزلوں نے تو مجھے ڈھونڈ لیا تھا حیدرؔ
پھر مِرا شوق سفر مجھ کو چُرا لایا تھا

...........................................

1980
اِس حال فقیری میں
عمریں بیت گئیں
زلفوں کی اسیری میں

.................................

1985
چار قدموں کا ہے زندگی کا سفر
دو قدم چل چکے، دو قدم رہ گئے

...................................

1986
شہر کی گلیوں نے چومے تھے قدم رو رو کر
جب ترے شہر سے یہ شہربدر آئے تھے

............................................

1987
ابھی ممکن ہی نہیں قرض چکانا تیرا
زندگی! قرض ترا ہوگا اَدا میرے بعد

..............................

1991
عشق میں اپنی ہی جب خاک اُڑالی ہم نے
پھر وہی خاک ترے پیار پہ ڈالی ہم نے

.............................................

1991
ڈھنگ کا کام کوئی ہم سے کبھی ہو نہ سکا
یوں تو سرسوں بھی ہتھیلی پہ جَما لی ہم نے

................................

1992
اس سے بچھڑ کے آئنہ دیکھا  تویوں لگا
ہاتھوں میں اپنے عمرِ رواں بھی نہیں رہی

..................................

1994
یہ بال و پر تو چلو آگئے نئے حیدر
بلا سے پہلے سے اپنے وہ خال و خدنہ رہے

....................................... 

1994
دو پہر جوانی تھی
پل میں بیت گئی
پھر شام سہانی تھی

................................

1995
عمر کی ناپائیداری کا بھی کچھ تو سوچتے
وصل کی تاریخ کو اگلے برس کرتے ہوئے

............................................

1996
اک عجب عالمِ برزخ میں ہی رکھا اس نے
نہ کبھی قرب ہی بخشا نہ جدائی دی ہے

............................

1996
 صرف گناہوں کا ہی بوجھ نہیں سر پر
اپنے نیک اعمال بھی ہم کو ڈھونے ہیں

.....................................

2000
 وہ بھی تھا کچھ ہلکے ہلکے سے میک اپ میں
بال اپنے ہم نے بھی کالے کر رکھے تھے

..................................................

2008
بہت سی بے نیازی اور اک یادوں بھری گٹھڑی
بڑا سامان اپنی خستہ سامانی میں رکھا ہے
یہاں سے رونقیں دکھ درد کی جاتی نہیں حیدرؔ  

دکھوں کا ایسا میلہ اپنی ویرانی میں رکھا ہے
.................................................. 


2010
 کُن کا اک لفظ اسیروں پہ کہیں سے اترا
آسماں  ہو گئے  تخلیق  قفس  کے اندر

 ..................................................
2012
 اور تھے حیدرؔ جو اس کی چاہ میں مرتے رہے
ہم نے الٹے ہاتھ سے جھٹکی ہوئی ہے زندگی

................................... 

میری زندگی کا اہم حصہ

نانا جی
میاں سراج دین
صاحب مرحوم
http://meri-mohabbaten.blogspot.de/2011/07/blog-post_5550.html 
..............................................
باباجی
قریشی غلام حسین
صاحب مرحوم
http://meri-mohabbaten.blogspot.de/2011/07/blog-post_7709.html 
...................................................
ماموں ناصر
پروفیسر ناصر احمد
صاحب مرحوم
http://meri-mohabbaten.blogspot.de/2011/07/blog-post_9194.html 
  ............................................

  حیدرقریشی اپنی شریکِ حیات مبارکہ حیدرکےساتھ

خاکہ: پسلی کی ٹیڑھ
http://meri-mohabbaten.blogspot.de/2011/07/blog-post_7362.html
..................................................
تینوں بیٹوں کے ساتھ
دائیں سے:عثمان حیدر،حیدر قریشی،

طارق محمودحیدر،شعیب حیدر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 .....................................................
 دریا  کی  روانی   ہے
اب مِرے بیٹوں میں
مِری گزری جوانی ہے

................................................. 
شعیب حیدر
................................................
عثمان حیدر

............................................
طارق محمود حیدر
....................................................
اگلی نسلوں میں چلی جائے روانی اپنی
زندگی!  ختم  نہیں  ہوگی   کہانی  اپنی

....................................................


پوتا شہر یار حیدر....شہری
گانی   والے   توتے
شہریؔ اور سونوؔ
دونوں میرے پوتے



پوتا جہاں زیب حیدر....سونو
.......................................................
2011
2014
پوتا:شایان حیدر....شان 
................. 
شہزادے کی صورت ہے
پوتاشانؔ ، اپنے
پردادے کی مورت ہے
 
.........................................................
پوتا:شیراز حیدر

 رحمت ہے سوا اُس کی
اب چوتھا پوتا
شیرازؔ ، عطا اُس کی

.............................................................
پوتی:ماہ نور حیدر.....ماہا

ماہا ؔ  مِری  پوتی  ہے
روتے ہوئے ہنستی
ہنستے ہوئے روتی ہے

..........................................................
پوتی:علیشا حیدر

 اک  پوتی    اور    آئی
بی بی علیشاؔ ،جو
سونو ؔ کی ہے ماں جائی

...........................................................
پوتی:ماہم حیدر

جب پوتی ہوئی ماہمؔ
باہم رشتے بھی
کچھ اور ہوئے باہم
 
 ........................................................
نواسا:مشہود کوثر.....رومی
.....................................................
نواسا:مسرور کوثر....جگنو
.................................................
نواسا:احتشام کوثر....شامی

رُومیؔ ،شامیؔ ،جگنوؔ
میری بیٹی کی
لے آتے ہیں خوشبو
 

................................................

نواسی:عنایہ کوثر
...............................................
عنایہ اپنے نانا کے ساتھ
...............................................
تینوں نواسے اپنے والد حفیظ کوثر کے ساتھ
 .....................................
دونوں دامادوں
 عبدالحفیظ کوثر اور عادل انور کریم کے ساتھ
..................................
عقب میں:دونوں پوتے،شہر یار اور جہاں زیب
سامنے تینوں نواسے:مسرور(جگنو)،احتشام(شامی)،مشہود(رومی

 سب ہی مجھے پیارے ہیں
پوتے، نواسے سب
دل کے سی پارے ہیں 

تینوں پوتیوں کے ساتھ علیشا،ماہم اور ماہ نور
  ..................................................
نواسی:عنایہ کوثر
.........................................
 عنایہ اپنے نانا کے ساتھ
 
Foto:29.12.2012
ہنستی ہے ، ہنساتی ہے
لوری سُنتی ہے
پھر مجھ کو سناتی ہے

................................................. 
 Foto:26.02.2010
ماہ نور کی آمین کی تقریب
 
........................................
ماہ نور کی آمین پرعلیشا بھی ساتھ موجودہے۔
.........................................
دو پوتوں،تین نواسوں اور تین پوتیوں کے ساتھ
............................................
دو پوتوں،تین نواسوں اور تین پوتیوں کے ساتھ
 سب ہی مجھے پیارے ہیں
پوتے، نواسے سب
دل کے سی پارے ہیں

....................................
شہر یار حیدر کی آمین کے موقعہ پر حیدر قریشی اور شعیب حیدر
.................................
شہریار(شہری) اور جہاں زیب(سونو
دونوں پوتوں کے ساتھ


 پوتوں کے آنے سے
ملتا ہوں اپنے
دادا کے زمانے سے

...................................

شایان حیدر کی چوتھی سال گرہ پر لی گئی ایک تصویر
سامنے:شیراز،شامی،شان،جگنو
عقب میں:ماہا اور شہری
.......................................................
 اب تک کے اپنے سارے پوتے،پوتیوں،نواسوں،نواسی کے ساتھ
۲۹
دسمبر ۲۰۱۲ء کی تصویر
 ہنسنے ہیں کہ رونے ہیں
بچوں کے بچے
سب میرے کھلونے ہیں

.....................................................
اب تک کے اپنے سارے پوتے،پوتیوں،نواسوں،نواسی کے ساتھ
۲۹ 

دسمبر ۲۰۱۲ء کی تصویر
جیون کا تسلسل ہے
دہراتا خود کو
یوں وقت مسلسل ہے

..................................................... 

   اب تک کے
سارے پوتے،پوتیاں،نواسے،نواسی
29.12.12 

....................................................
اگلی نسلوں میں چلی جائے روانی اپنی
زندگی!  ختم  نہیں  ہوگی   کہانی  اپنی

  .................................................... 

خاندان میں دو نئے بچوں کی آمد

ثانیہ حیدر
پیدائش :۱۰ مئی ۲۰۱۳ء
چار پوتوں اور تین پوتیوں کے بعد چوتھی پوتی

.......................................

ثانیہ حیدر اپنے دادا ابو کے ساتھ

 ..............................................

پوتی ثانیہ حیدر
2017
.............................................. 

نواساساحل انور
پیدائش : ۱۰جون ۲۰۱۳ء
 

ابھی ساحل کاکھلونا اس کے ساتھ کھیل رہا ہے
.....................................
ساحل انور اپنے نانا ابو کے ساتھ



 ساحل انور
  اپنے نانا ابو کے ساتھ
.................................................